اسامہ احمدبن
صغیر احمد
جامعہ
اسلامیہ مدینہ منورہ
فساد
یا
افساد فی الارض قرآن کریم کی ایک جامع تعبیر ہے ، یہ لفظ قرآن میں جا بجا
متعدد اسالیب ،متنوع پیرائے نیز
مختلف سیاق وسباق میں استعمال ہواہے، اسکی تفسیر
مىں اہل علم نے سیاق وسباق کے اعتبار سے الگ الگ معانی ومفاہیم بیان کئے
ہیں ،غرض یہ کہ فساد فی الارض ایک نہایت ہی جامع ووسیع لفظ ہے جس میں ہر
طرح کی
ضلالت وگمراہی، شرک وکفر،خرافات و اوہام،قتل وغارت گری ،فتنہ پروری وشر
انگیزی اور
حقوق اللہ وحقوق العباد کی پامالی شامل ہے. اس مختصر مضمون میں اسی فساد فی
الارض کے معانی ومفاہیم،اور انواع واقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ
بتلا
گیا ہے کہ فتنہ وفساد کے ان نوع بنوع مظاہر پر کنڑول کرنے کے لئےقرآن نے
ہمیں کیا
نسخہ عطا کیا ہے.
فساد کا مفہوم
فساد وافساد
یہ صلاح واصلاح کا عکس ہے،اہل زبان کے یہاں یہ نقص وخلل سے عبارت ہے ،اگر کوئی بھی
شیء اپنا اعتدال وتوازن، وسطیت استقامت
کھو بیٹھے جو شریعت نے اسکے لئے طے کئے ہیں تو اسے ہم فاسد سے تعبیر کر سکتے ہیں،عموما
ًانسانی عقل اور فطرت سلیمہ کے لئے فسادوافساد ایک مبغوض ومکروہ شیء ہے جبکہ صلاح
اصلاح ایک محبوب ومرغوب امر ہے.
قرآن میں لفظ
فساد اور اسکے مشتقات تقریبا ًپچاس سے
زائد مقامات پر وارد ہوئے ہیں، جن میں سے اسی فیصد میں اسکے ساتھ
لفظ"ارض" بھی آیا ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد کا سرزمین سے نہایت ہی گہراتعلق ہے اور اکثر فسادات
اسی سرزمین میں رونما ہوتے ہیں.
ما
حصل یہ کہ
فساد فی الارض قرآن کی ایک شامل ووسیع تعبیر ہے،جو شریعت اسلامیہ کی خلاف
ورزی کے
تمام انواع واقسام کو محیط ہےخواہ انکا تعلق عقائد واحکام سے ہو، یا
ایمانیات وشرائع سے، نیات و اعمال سے ہو یا عبادات ومعاملات سے.
فساد
کے اقسام اور اسکی شکلیں
اوپر
یہ بات
واضح ہو چکی ہے کہ فساد فی الارض کی متعد دشکلیں اور قسمیں ہیں، اسکا
تعلق عقائد واحکام سے بھی ہو سکتا ہے،تو عبادات معاملات اور اخلاق وسلوک
میں بھی فساد واقع ہو سکتا ہے، درج ذیل سطور میں انہیں اقسام پر روشنی
ڈالی گئی
ہے.
عقدی
فساد: یہ فساد فی الارض کی سب سے بدترین قسم ہے،بلکہ تمام
فسادات کی جڑ ہےکیونکہ جب انسان کا عقیدہ وایمان فاسد ہو جائے تو لازما ً اسکے اعمال وافعال اور اخلاق وکردار میں
بھی فساد آجاتاہے ،عقدی فساد سے مراد یہ ہے کہ الہیات ونبوات اور ایمانیات وغیبیات
کے باب میں انسان کا عقیدہ کتاب وسنت کے
مخالف ہو اور اسکی سب سے بدترین قسم شرک وکفر ہے، اللہ فرماتاہے:"الَّذِينَ كَفَرُوا
وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا
كَانُوا يُفْسِدُونَ"(النحل:۸۸) جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم انہیں عذاب پر
عذاب بڑھاتے جائیں گے یہ بدلہ ہوگا ان کی فتنہ پردازیوں کا۔.
ایک جگہ اور
فرمایا:" وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ
لَا يُؤْمِنُ بِهِ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ" (یونس:۴۰) اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور
بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اور آپ کا رب فساد کرنے والوں کو خوب
جانتا ہے.
نیز
فرمایا:" وَالَّذِينَ
كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي
الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ"(الانفال:۷۳) کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا
تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا.
نفاق بھی
فساد کی ایک قسم ہے:"
وَإِذَا
قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ" (البقرۃ:۱۱-۱۲) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ
زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں خبردار ہو یقیناً یہی لوگ فساد
کرنے والے ہیں لیکن شعور (سمجھ) نہیں رکھتے.
غیر اللہ کو
پکارنا اور اس سے پناہ طلب کرنا بھی فساد
ہے:" ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا
وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ"(الاعراف:۵۶) تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا
کرو گڑ گڑا کے بھی اور چپکے چپکے بھی واقعی اللہ
تعالیٰ ان لوگوں کو نا پسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں اور دنیا میں اس کے
بعد کہ اس کی درستی کر دی گئی ہے فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے
ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے بیشک اللہ
تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے.
اسی طرح انبیاء ورسل کی تکذیب، ان سے عداوت ودشمنی ، انکی مخالفت اور حق کو ٹھکرانا یہ سب فساد
عقدی میں شامل ہے:"
وَجَحَدُوا بِهَا
وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ
عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ"(النمل:۱۴) انہوں نے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف
ظلم اور تکبر کی بنا پر پس دیکھ لیجئے کہ ان فتنہ پرداز لوگوں کا انجام کیسا کچھ
ہوا۔
نیز
الحاد
وزندیقیت ،کہانت وجادو ری ،غیر اللہ کو
حاجت روا ومشکل کشا سمجھنا، انکے لئے نذر ونیاز کرنا، اللہ کے اسماء
وصفات کا انکار کرنا، یا اس میں تحریف وتاویل کرنا، غیر اللہ کو اسکا شریک
وساجھی، حاضر وناظر اور عالم الغیب سمجھنا
یہ سب فساد كي بد ترين شكلىں ہیں.
امام ابن
قیم رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:" اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا،
غیر اللہ کو پکارنا اور اسکی عبادت کرنا نیز نبیe کے علاوہ
کسی اور کو قابل اتباع سمجھنا یہ سب فساد کی بد ترین اقسام ہیں، بنی آدم کی سعادت وصلاح اسی
میں کہ وہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کریں اور اسکے رسولe کی اطاعت
کریں ، جو شخص بھی اس دار فانی اور اسکے
احوال وظروف کا بغور مطالعہ کریگا اسکے
لئے یہ بات واضح ہو جائیگی کہ اللہ کی
توحید، اسکی عبادت واطاعت اور رسول e کی
فرماںبرداری فلاح وصلاح کا سرچشمہ ہیں نیز شرک وکفر، غیراللہ کی اطاعت گزاری اور
رسول کے سنن سے بیزاری فتنہ وفساد،
قحط وبلا،اور شرو شقاء کا باعث ہیں" (بدائع الفوائد: ۳/۱۵).
اخلاقى وسلوكى فساد: مذہب اسلام
نے انسانوں کی روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ انکے اخلاق و کردار کی تحسین پر بھی کافی
زور دیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کریمانہ اخلاق، فاضلانہ کردار اور شریفانہ
عادات واطوار معاشرے اور سماج کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں، ان
سے باہمی اخوت وبھائی چارگی اور ایثار وقربانی کا جذبہ جنم لیتا ہے. اس لئے مذہب
اسلام نے اخلاقی تنزل وبحران کو عظیم ترین فساد قرار دیا ہے، چنانچہ ظلم وطغیان،
عداوت وسرکشی، طعن وتشنیع، بغض و حسد،کبر وغرور اور تکبر وگھمنڈ کرنے والے
کو اللہ نے فسادی قرار دیا ہے، اللہ تعالى
قارون کا قصہ بیان کرتے ہوئےفرماتا ہے : "إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ
لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ
اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ
كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ
اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ"(القصص:۷۷-۷۶) ایک بار اس کی قوم نے کہا کہ اتر
امت اللہ
تعالیٰ اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔اور جو کچھ تجھے اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی
تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول جا جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا
سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے۔
اسی طرح عہود و مواثیق کی پامالی،
وعدے وعود کی بے حرمتی اور رشتے ناطے کو توڑنا بھی فساد ہے، اللہ کا
ارشادہے:"وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ
مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ
اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ" (الرعد:۲۵) اور جو اللہ کے عہد کو اس کی
مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں
توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا
گھر ہے –
اسی طرح جنسی بے راہ روی، فحاشی
وعریانیت، اختلاط وانارکی ،تبرج وبےحجابی،
لواطت وزنا کاری اور ہر طرح کے
فواحش ومنکرات بھی فساد ہیں. اللہ فرماتا ہے: "ولُوطاً إِذ قالَ لِقومِه ِإنَّكُمْ
لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ
وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ فَمَا كَانَ
جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ
مِنَ الصَّادِقِينَ قَالَ رَبِّ
انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ ”(العنکبوت:۲۸-30) اور حضرت لوط(علیہ السلام) کا بھی
ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے
پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیاکیا تم مردوں کے پاس بد فعلی کے لئے آتے ہو
اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام
مجلسوں میں بےحیائیوں کا کام کرتے ہو اس
کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے
پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ، حضرت
لوط(علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما۔
مالی فساد: مال وزر
انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، شریعت مطہرہ نے
اس بابت ہم پر ایک مکمل نظام لاگو کیا ہے، چنانچہ کسب حرام اور سود خوری سے
ہمیں روکا ہے:" وَأَحَلَّ
اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا"(البقرۃ:۲۷۵) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام.
اسی طرح
خرید وفروخت میں دھوکہ دھڑی، خیانت، جھوٹی قسمیں کھانا نیز غبن وغصب، ناجائز
طریقوں سے مال کمانا، اس میں اسراف کرنا یہ سب فساد میں شامل ہے: "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا
تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ" (الاعراف:۳۱) اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے
مت نکلو۔ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے
والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ نيز مال ودولت كي ذخير ہ اندوزی کرنا، بخل وکنجوسی کرنا
،اس کو مستحقین پر خرچ نہ کرنا ، اموال يتيم ميں خيانت كرنا اور ناپ تول ميں كمي كرنابھی فساد ہے، الله
فرماتا هے: " وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا
تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ"(الشعراء:۱۸۲-۱۸۳) اور سیدھی صحیح ترازو سے تولا
کرو،لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو بےباکی کے ساتھ زمین میں فساد نہ مچاتے
پھرو-
امني اور اجتماعي فساد: مذہب اسلام
امن وآمان ، چین وسکون اور صلح وآشتی کا علمبردار ہے، اس نےسماج ومعاشرے میں آتنک
ودہشت پھیلانے،لوگوں کو ڈراناےدھمکانے، ناجائز خون بہانا،قتل وغارت گری،،چوری و ڈاکہ
زنی، لوٹ مار اورغنڈہ گردی کرنے کو فساد سے تعبیر کیا ہے، قرآن کا ارشاد ہے:" إِنَّمَا
جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ
وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ
يُصَلَّبُوا
أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا
مِنَ الْأَرْضِ
ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ
عَظِيمٌ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا
عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ"(المائدۃ:۳۳-۳۴) جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں
فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں
یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے
یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔
ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ
اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم
والا ہے۔
الله رب العالمين نے فرعون كي بابت فرمایا:" إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا
شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ
إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ"(القصص:۴) یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے
لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا بیشک وہ تھا
ہی مفسدوں میں سے۔
نيز لوگوں کے
مابین جنگ وجدال، حروب وقتال کو ہوا دینا بھی فساد ہے، قرآن کا ارشاد ہے:" كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا
اللَّهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ"
(المائدۃ:۶۴) جب کبھی لڑائی
کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو اللہ
تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے، یہ ملک
بھر میں شر اور فساد مچاتے پھرتے ہیں اور
اللہ تعالیٰ فسادیوں سے محبت نہیں کرتا۔
ماحولیاتی
فساد: آج پوری دنیا ماحولیاتی فساداور آلودگی ءفضا کے مسائل سے دوچار ہے ، ان سے
نجات کی تلاش وجستجو میں اور ان پر حتى الامکان کنٹرول کرنے کے لئے عالمی سطح پر اقدامات کئے جا
رہے ہیں، مذہب اسلام نے بھی ہمیں ماحولیات کی نظافت، فضا کی حفاظت، پانی کے بچاوْ
نیز اجسام وابدان، ملابس و مطاعم، گھر آنگن اور شاہراہ وغیرہ کی صفائی وستھرائی کا
حکم دیا ہے بلکہ طہارت ونظافت کو نصف ایمان قرار دیا ہےلہذا اگر کوئی ان امور کی
مخالفت کرے پانی کو ضائع کرے، ماحول وفضا کو گندہ کرے اور عام راستوں پر یا ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرے تو وہ بھی
فسادی ہے، حديث میں آيا هے: "لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الراكد" تم ميں سے كوئي ٹھہرے
ہوئے پانی میں
پیشاب نہ کرے.
شریعت اسلامیہ میں اس طرح کے اور بھی ارشادات ہیں جو ماحول وفضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے
رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں.
فساد کی اصلاح اور اس
کا علاج
اکثر وبیشتر مقامات پر قرآن
کریم نے جہاں فساد یا افساد فی الارض اور مفسدین کا تذکرہ کیا ہے، وہیں
اس کا علاج اور حل بھی بتلایا ہے، اہل وعیال،سماج ومعاشرہ اور قوم وملت
کو فسادد اور مفسدین سے کیسے پاک
کیا جائے اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے،اس
مرض کے علاج کے لیے قرآن نے دو نسخے استعمال کئے ہیں-
۱: ہدایت وارشاد ، توجیہ وابلاغ اور تحذیر
وترھیب کا راستہ، چناچہ کئی ایک آیتوں میں
فساد وافساد سے صراحتا ًمنع کیا گیا ہے : "وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا" (الأعراف:۵۶) اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی
درستی کر دی گئی ہے فساد مت پھیلاؤ.
تو کہیں مفسدین پر رب العالمین
کے نازل شده عذاب وعقاب کو ذکر کے تحذیر
وترھیب کا طریقہ اپنایا گیا ہے:" أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ
مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ وَفِرْعَوْنَ
ذِي الْأَوْتَادِ الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ "( سورۃ الفجر: 6-11) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب
نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا ستونوں والے ارم کے ساتھ جس کی
مانند کوئی قوم ملکوں میں پیدا نہیں ہوئی۔ اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں
بڑے بڑے پتھر تراشے تھے۔ اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا ا ن سبھوں نے شہروں
میں سر اٹھا رکھا تھا۔ اور بہت فساد مچا رکھا تھا، آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا.
اس آیت میں اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے کہ ان اقوام کو اپنے عقدی بحران ، اخلاقی فساد اور اجتماعی
شرارت کا انجام بھگتنا پڑا.
۲: فساد
کے علاج و اصلاح کا دوسرا طریقہ قصاص
وحدود او رعقاب وتعزیر پر مبنی ہے، شریعت
اسلامیہ نےسر زمین میں فتنہ وفساد پھیلانے
والے افراد کی زجر وتوبیخ اور ان پر نکیل
کسنے کے لئے ان پر کچھ سزائیں مقرر کی ہیں،
چناچہ اگر کوئی کسی کو ناحق قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جائے، اگر چور ی کرے تو ہاتھ کاٹا جائے، اگر زنا کرے
تو کوڑے لگائے جائیں اوراگر کوئی مرتد ہو
جائےتو اس کوسزا ئےموت ہو -
اگر قرآن کے اس علاج پر ہرجگہ عمل ہو اور مفسدین پر شرعی حدود کو نافذ
کیا جائے تو ان شاء اللہ تعالی پوری
دنیا امن وشانتی کا گہوارہ بن جائے گی اور
فتنہ وفساد،ظلم وزیادتی ، فحاشی وانارکی ، قتل وغارت گری ، فواحش ومنکرات اور
جرائم ومظالم کا گراف نہایت ہی کم ہو جائیگا.
آج بھی جن ممالک میں اسلامی حدود کا قیام ہے ، وہاں
جرائم وفسادات کی شرح دیگر ممالک کی بہ
نسبت بہت ہی کم ہے اس کی سب سے واضح مثا ل مملکت سعودی عرب ہے جہاں
الحمدللہ شرعی حدود کا نفاذ اور اسلامی قوانین کی تطبیق زیر عمل ہے-
اللہ رب العالمین نظام کائنات کو متوازن رکھنے اور
فساد فی الارض کے سد باب کے لیے برابر ایسے افراد تیار کرتا رہتا ہے جو اس فریضہ
کو انجام دے سکیں ورنہ زمیں پر فساد عظبم برپا ہو جاتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: "وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ
الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ" (البقرہ : ۲۵۱) اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو
زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ
دنیا والوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے۔
آخر
میں بارگاہ الہی میں التجا ہے کہ ہم تمام
لوگوں كو فساد کے انواع واقسام اور اسکے اضرار واخطار کو سمجھ کر ان سے گریز کرنے کی توفیق دے،
نیز اگر ہم کسی بھی فساد میں ملوث ہوں توز ہمیں سچی توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے.....آمین
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق